Categories
Uncategorized

مولانا ڈاکٹر مولاناعادل خان کے شہادت سے پیدا ہونے والا خلاء مدتوں پر نہیں ہوسکے گا۔ ۔حافظ محمد صدیق مدنی

چمن۔۔جمعیت علماء اسلام ضلع قلعہ عبداللہ چمن کے رہنماء اورنیشنل یوتھ اسمبلی پاکستان کے ممبرمولوی حافظ محمد صدیق مدنی نے وفاق المدارس العربیہ پاکستان کے صدر مولانا سلیم اللہ خان نوراللہ مرقدہ کے فرزند اورجامعۃ فاروقیہ کراچی کے مہتمم و بقیۃ السلف شیخ القرآن والحدیث شیخ مولاناڈاکٹر محمد عادل محمودرحمہ اللہ کی اس دار فانی سے رحلت ہونے پر دلی رنج وغم کے اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس ہستی کے رحلت سے جوامت مسلمہ میں پیدا ہونے والا خلاء مدتوں پر نہیں ہوسکے گا ۔شیخ القرآن والحدیث شیخ مولاناڈاکٹر محمد عادل محمودرحمہ اللہ ایک جید عالم دین اور اتحاد بین المسلین کے داعی تھے اور ایسے ہستیاں صدیوں میں بہت کم پیدا ہوتے ہیں اور بعض فہم وعقل، اخلاص وللہیت اور عزم و استقلال کی پیکر خدا شناس ہستیاں ایسی ہوتی ہیں کہ جن کا کاز اور مقصد حیات اس قدر عالی کردارکاحامل ہوتا ہے کہ ان کی داستانِ حیات آب زر سے کتابت کے لائق ہوتی ہے،جو اس دارِ فانی کو خیرباد کہہ کر اُس میں ایسا رستا ہوا زخم چھوڑ جاتی ہیں کہ جس کا مندمل ہونا عرصہ دراز تک بہت مشکل اور بے امکان ہو تا ہے، زمانہ ہزاروں کروٹیں لے، تب جا کر کہیں وہ خلا پر ہونے کو آتا ہے۔ موصوف جامع کمالات، عجز و نیاز کے پیکر، علمی و عملی طور پر پختہ کار اور سادگی و مستقل مزاجی میں اکابر کی یاد گار تھے۔ افہام و تفہیم کا خاص ملکہ اور درس و تدریس کے شہسوار تھے۔ علوم وفنون پر مکمل عبور اور کئی درسی کتابیں آپ کو حفظ تھیں۔ آپ اپنے مخلصانہ دینی جذبے، بے پناہ قوتِ عمل، اشاعت دین کی خاطرانتھک محنت اور قومی و ملی اصلاحات میں دور اندیشی اور ہمت و استقلال کے لحاظ سے ان برگزیدہ ہستیوں میں سے تھے، جو کسی بھی قوم کے لئے باعث فخرہو سکتی ہیں۔آپ کی طبیعت میں انتہائی سادگی اور تکلف وبناوٹ کا نام و نشان تک نہ تھا،مگر استغناء وخودداری اور کفایت شعاری کا جوہر اتم اپنے اندر ودیعت لئے ہوئے تھے۔ ہمیشہ حرص و ہوس اور خود غرضی وشہرت سے کوسوں دور محض بندگانِ خدا کی بھلائی، دین متین کی اشاعت اور حق گوئی کواپناشعار بنائے رکھا۔ خود بھی عملی نمونہ بنے رہے اور اشاعت دین کے کئی مراکز کی آبیاری بھی کی۔مولوی محمدصدیق مدنی نے مزید کہا کہ موصوف درس و تدریس اور علمی و اصلاحی خدمات میں آپ کا نمایاں و صف علماء و صلحا اورحضرات اکابر کے ہاں آپ کا بے مثال اعتماد تھا۔ دینی وعلمی حلقوں میں آپ کو قدرو منزلت کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا۔تمام عمر اخلاص سے عوام و خواص میں قرآن و سنت کی تعلیم کو عام کیا اور اساتذہ کا نام روشن کیا۔ آخر کار جب قدرت کو آپ کا اس دار فناء میں رہنا نا منظور ہوا توطویل تدریسی خدمات کے بعد یہ پاک روح اپنے اصلی گھر کی طرف روانہ ہوگئی۔
مولوی محمد صدیق مدنی نے مزید کہا کہ برگزیدہ شخصیات کا جانبِ حق رحلت فرماناان کے حق میں تو خوش آئندہوتا ہے کہ وہ بے سکونی کے گھر سے اپنے پروردگار، مالک حقیقی کے جوار میں منتقل ہو جاتے ہیں اورمقصد حیات پالیتے ہیں، مگرپسماندگان اور متوسلین کے لئے یہ داغِ مفارقت فیوض وبرکات سے محرومی اورقلبی اضمحلال کاسبب بن جاتا ہے۔
اللہ تعالیٰ اس پاک رو ح کو اپنے جوار میں مقاماتِ عالیہ عطا فرمائیں اورجمیع متوسلین میں قرآن وسنت کے علوم وبرکات کی بہاریں قائم فرمائیں۔اللہ تعالیٰ حضرت کے تمام پسماندگان کو صبر جمیل عطا ء فر ما ئیں۔

Categories
Uncategorized

National Youth Assembly of Pakistan

National Assembly Of Pakistan

National Youth Assembly of Pakistan

National Assembly of Pakistan

Categories
Uncategorized

دینی مدارس۔۔۔سلامتی وتحفظ کا سایہ فگن

تحریر: حافظ محمد صدیق مدنی


مدارس اسلامیہ کی خشت اول امن کے گارے سے تیار ہوتی ہے اور اس کے مقاصد واہداف میں سلامتی اور تحفظ کا سایہ فگن ہوتا ہے اس واقعیت کے باوجود یہ پروپیگنڈہ کہ مدارس اسلامیہ دہشت گردی کے اڈے اور انتہاپسندی کے مراکز ہیں، معروضیت مخالف ہیں۔پوری دنیا میں جس مدرسہ کی بنیاد سب سے پہلے پڑی تھی وہ رحمۃ للعالمین کی زیر سرپرستی صفہ کے نام سے قائم ہوئی تھی، رحم جس کا کام، سلامتی جس کا اعلان اور تحفظ جس کا نظام تھا، اسی روشنی سے جلاپانے والے ہزاروں مدارس دینیہ گزرے دور سے لے کر آج تک اسی اساس پر قائم ہیں ہندوستان میں دینی مدارس بھی اسی نظام امن کے پیامبر اور محافظ ہیں، دینی مدارس کی بنیاد ہی امن وسلامتی کے عنوان سے بنتی ہے اوراس کی تشکیل بھی خیروخوبی کے صدائے عام سے ہوتی ہے۔اجتماعی اقدار کی تشکیل میں دینی مدارس کے بنیادی کردار سے انکار، ایک برملا حقیقت کا انکار ہوگا! جن بنیادوں پر ان کا قیام عمل میں آیا ہے اس کا نتیجہ اور ہدف صالح اقدار کی تشکیل و تعمیر ہے، ان مدارس کا پس منظر یا ان کی تگ و دو کا نتیجہ، بہترین علماء، صاحب کردار فضلاء اور انسانیت کے علمبردار، حاملین اسلام کی پیداواری اور معاشرہ کی برائیوں، قباحتوں اور داخلی شورشوں کا انسداد ہے درحقیقت ان مدارس کا جو اساسی منثور اور بنیادی ہدف ہے وہ ہے ”عالمی ضرورتوں کی اسلامی تکمیل“ یہی وہ دائرہ ہے جس کے تحت سارے مدارس کا وجود عمل میں آ یا ہے، گویا اپنے عمومی اور اساسی مفہوم میں مدارس دینیہ کی تاسیس عالمی ضرورتوں کی اسلامی تحصیل و تکمیل اورانسانی احتیاجوں کی بھرپائی ہے۔ یہی مدارس کا خاص ہدف ہے اور عام ہدف بھی، ان سے گریز، یا دامن کشی، اپنی اساس سے اعراض ہوگا، اوراگرایسا ہے تو واقعی یہ المیہ اور نامسعود ہے ان تمام باتوں کے ساتھ ساتھ، حقائق کا صحیح اور مناسب جائزہ لیا جائے تو یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ ہمارے دینی مدارس اپنے اساسی منشور سے تھوڑے بہت گریزاں ہیں، یہ کوئی خواہ مخواہ کا قیاس اور رائے زنی نہیں، بلکہ موجودہ دینی اداروں کے اقدامات، رویوں اور عمل سے یہ بات معلوم ہوتی اور واقعی یہ بڑی تکلیف دہ ہے، اس حوالے سے دینی جامعات کو غور وفکر کی ضرورت ہے۔
الحمدللہ! اللہ رب العزت نے انسان کو عقل عطا کی ہے اور عقل عطا کرنے کا مقصد ہی تمیز بین الخیر والشر ہے، یعنی اسی عقل کے سہارے وہ اچھے برے میں تمیز کرسکے۔ اس سے معلوم ہوا کہ عقلمند کا ہر کام بامقصد ہوتاہے، وہ کوئی بھی کام کرنے سے پہلے، مقصد کی تعیین کرتا ہے، تاکہ اس کی محنت اکارت نہ ہو؛ جیسے کوئی انسان دوکان خریدتا ہے، تو مقصد اس میں تجارت کرنا ہوتا ہے۔ ظاہر بات ہے کہ اگر وہ اس میں تالالگادے تو لوگ بے وقوف کہیں گے، کہ عجیب آدمی ہے، دوکان خریدی یا بنائی اورایسے ہی تالا لگائے پڑی ہے، تو تعجب کیوں؟مقصد سے ہٹنے پر۔ ایسے ہی اللہ رب العزت نے انسان بنایا اوراسے اشرف المخلوقات کے مقام پر فائز کیا، تو تخلیق انسانی کا مقصد بھی بیان کردیا وما خلقت الجن والانس الا لیعبدون“ میں نے انسان اور جنات کو محض اپنی عبادت کی غرض سے پیدا کیا۔ تو معلوم ہوا کہ مقصد حیات انسانی، عبادت خداوندی ہے، بقیہ امور مثلاً: کمانا کھانا پینا سونا وغیرہ، مقصد نہیں، بلکہ ضرورت اور حاجت ہے، اگر کوئی انسان عبادت جل مجدہ سے منہ موڑکر محض کھانے پینے کمانے اور سیر و تفریح، کھیل کود میں لگ جائے، تو اس کا مطلب وہ اپنے مقصد سے ہٹ کر زندگی بسر کررہا ہے۔ اسی لیے اس کا انجام جہنم اور عذاب ہوگا۔ جیسے قلم لکھنے کے لیے بنایا جاتا ہے، مگر اگر ایک مدت تک اسے استعمال نہ کیا جائے تو وہ بے کار ہوجاتا ہے۔ اب جب یہ بات سمجھ میں آگئی، تو آئیے! مدارس کے قیام کا مقصد اور پس منظر بھی معلوم کرتے چلیں، تاکہ بعض روشن خیال، نام نہاد دانشور اور مدارس اور مسلمانوں کے نادان خیرخواہوں کو بھی بات سمجھ میں آجائے، اور وہ مدارس سے ڈاکٹرز، انجینئر اور سائنس داں پیدا کرنے کی خواہش ترک کردے، اور خود اپنے گریبان کو جھانکیں کہ معاشرے کو خاص طور پر مسلمان معاشرے کو جو ڈاکٹرز، سائنس داں اور انجینئرز وغیرہ نہیں مل رہے ہیں، اس میں قصور ان کا ہے، مدارس کا نہیں۔ ابھی کچھ دنوں پہلے میں نے ایک روزنامہ میں پڑھا کہ اتنے کثیر تعداد میں مدارس ہونے کے باوجود پچھلے نوسوسال میں مدارس نے کوئی خوارزمی خیام رازی امت کو نہیں دیا، تو مجھے بڑا عجیب سا معلوم ہوا، کچھ ہنسی بھی آئی اور غصہ بھی؛ تو میں نے قلم اٹھایا اور ارادہ کرلیا کہ ان جیسے مقالہ نگاروں کے سامنے مدارس کا مقصد بیان کردینا ضروری ہے تاکہ امت، خلطِ مبحث کا شکار نہ ہوجائے، امید ہے کہ اس کا بغور مطالعہ کریں گے۔
1857 میں متحدہ ہندوستان کے باشندوں کی مسلح تحریک آزادی ناکام ہوگئی اورہندوستان میں برطانوی حکومت باضابطہ قائم ہوگئی، تو اس نئی برطانوی ظالم حکومت نے دفتروں اور عدالتوں سے فارسی اور عربی زبان کی بساط لپیٹ دی، اس کے ساتھ ساتھ دیگر علومِ اسلامیہ کا بھی، خاص کر فقہ اسلامی، تفسیر، حدیث کی تعلیم دینے والے مدارس کے معاشرتی کردار پر بھی خطِ نسخ کھینچ دیاگیا، جس کے نتیجے میں ہزاروں مدارس اس نوآبادیاتی فیصلے کے نذر ہوگئے، ایسے سنگین حالات میں حکیم الامت حضرت شاہ ولی اللہ صاحب رحمۃ اللہ علیہ کی جماعت کے بچے کھچے درویش صفت بزرگوں نے دیوبند، سہارنپور، مرادآباد اور ہاٹ ہزاری میں دینی مدارس کے، ایک رضاکارانہ اور پرائیویٹ سلسلے کا آغاز کیا۔ جو ان بزرگوں کے خلوص اور معاشرے کی دینی ضرورت کے باعث بہت جلد ایک مربوط اور منظم نظام کی شکل اختیار کرگیا، اور جنوبی ایشیا کے کونے کونے میں ایسے مدارس کا جال بچھ گیا، اور اب تو ماشاء اللہ صرف ہندوستان اور جنوبی ایشیا ہی نہیں، بلکہ برطانیہ، امریکہ، کنیڈا، جرمنی، آسٹریلیا، جنوبی افریقہ اور اب عرب ممالک میں بھی اس کے قیام کی ضرورت محسوس کی جارہی ہے، بلکہ قائم کئے جارہے ہیں، اور کئے جاتے رہیں گے (انشاء اللہ) کیوں کہ اس کا مقصد بڑا ہی پاکیزہ اور مقدس ہے۔
اہلِ اسلام کا بنیادی عقیدہ ہے کہ وہ اپنی زندگی کے انفرادی، اجتماعی، شخصی ومعاشرتی تمام معاملات میں وحی الٰہی کے پابند ہوں، اور اخروی نجات کے ساتھ ساتھ ان کی دنیاوی کامیابی اور فلاح بھی آسمانی تعلیمات کی پیروی پر موقوف ہے، اہلِ اسلام حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم تک کے تمام انبیاء کی تعلیمات کو حق مانتے ہیں، اور اس پرایمان رکھتے ہیں، اور ان کا یہ عقیدہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات، تمام انبیائے کرام علیہم السلام کی تعلیمات کا نچوڑ اور خلاصہ ہے۔اور قرآن کریم وحی الٰہی کا فائنل ایڈیشن ہے، اور وہ مکمل محفوظ ہے؛ باقی تمام کتابیں عدم حفظ کا شکار ہیں، لہٰذا راہِ حق کے لیے اس کے علاوہ کوئی اور سبیل ہی نہیں۔ اس پس منظر سے یہ بات ثابت ہوگئی کہ ہر مسلمان مرد اور عورت کا قرآن و سنت کی تعلیمات سے آراستہ ہونا، اس کے دینی فرائض میں شامل ہے؛ لہٰذا دنیا پر استعماری طاقتوں کے تسلط سے پہلے مسلمانوں کی مذہبی حکومت اور قیادت ہی، دینی تعلیم کے فروغ کو اپنی دینی ذمہ داری سمجھتی تھی، لہٰذا اس کے لیے جو کچھ ہو، کرگذرتی تھی، اس میں کوتاہی نہیں کرتی تھی، مگر استعماریوں کے تسلط کے بعد مذہبی تعلیمات علماً وعملاً صحیح طور پر باقی رکھنے کے لیے رضاکارانہ طور پر مدارس کی صورت میں پرائیویٹ تعلیمی نظام کی بنیاد رکھی گئی، قیام مدارس سے اکابر کا اصل مقصد، اسلامی معاشرہ میں دینی تعلیم کو باقی رکھنے کے لیے معاشرہ میں مساجد و مدارس کو رجال کار کی فراہمی تھا، تاکہ دینی تعلیم کا سلسلہ بلا کسی تعطل و خلا کے چلتا رہے الحمد للہ مدارس اپنے مقصد میں کامیاب ہیں، خود علامہ اقبال نے مدارس پر اعتراض کرنے والوں سے کہا تھا کہ ”ان مدارس کو اسی حالت پر کام کرنے دو۔ اس نے ہندوستان کو اسپین ہونے سے بچالیاہے۔“
خلاصہ کلام یہ ہے کہ مدارس، ضرورت کے بقدر انگریزی کمپیوٹر وغیرہ تو اپنے نصاب میں داخل کرسکتے ہیں مگر مدارس سے یہ مطالبہ کرنا کہ وہ ڈاکٹرز اور انجینئر معاشرہ کو فراہم کرے۔ بقول شیخ الاسلام حضرت مولانا تقی عثمانی دامت برکاتہم، ایساہی ہے جیسے کسی میڈیکل کالج کے نصاب میں انجینئرنگ کی کتابیں داخل کرنا یا کسی انجینئرنگ کالج میں ڈاکٹری کی کتابیں داخل کرنا۔ ظاہر ہے کہ اس کو حماقت تصور کیا جاتا ہے، تو مدارس سے یہ مطالبہ بالکل ایسا ہی ہے، جیسے آم کے درخت سے جامن یا انگور کی امید رکھنا۔
بہرحال اس مضمون کا مقصد، صرف قیام مدارس کا بیان کرنا تھا جو اختصاراً بیان کردیاگیا، الحمدللہ! مدارس اپنے مقصد میں کامیاب ہیں اور انشاء اللہ کامیاب رہیں گے، ان ہی مدارس نے حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ، حضرت گنگوہی رحمۃ اللہ علیہ، قاضی مجاہد الاسلام رحمۃ اللہ علیہ، مولانا علی میاں ندوی رحمۃ اللہ علیہ، مولانا تقی عثمانی، مفتی شفیع صاحب رحمۃ اللہ علیہ، علامہ ادریس کاندھلوی رحمۃ اللہ علیہ، علامہ بنوری رحمۃ اللہ علیہ، علامہ شبیر احمد عثمانی رحمۃ اللہ علیہ، علامہ ظفر عثمانی رحمۃ اللہ علیہ، شیخ زکریا رحمۃ اللہ علیہ، قاری طیب صاحب رحمۃ اللہ علیہ، حضرت مدنی رحمۃ اللہ علیہ، علامہ کشمیری رحمۃ اللہ علیہ، عطاء اللہ شاہ بخاری رحمۃ اللہ علیہ، مولانا منظور نعمانی رحمۃ اللہ علیہ وغیرہ رحمہم اللہ تعالیٰ جیسے اساطین علم وفضل امت کو عطا کئے اور کرتے چلے جارہے ہیں۔ ڈاکٹرز اور سائنس داں کا مطالبہ علی گڑھ اور جامعہ ملیہ سے کرو، جو اسی مقصد پر قائم کئے گئے تھے، کہ ہم امت کو انجینئرز، ڈاکٹرز اور سائنس داں دیں گے، اگر ان مدارس سے بے جا مطالبات کرنے والوں کو شکایت ہی ہے. مدارس کیسے چلتے ہیں اور انہیں کیسے چلایا جاتا ہے، اسے تو اللہ ہی خوب بہتر جانتے ہیں، کتنی قربانیوں اور کیسے کیسے طعنوں اور دربدر کی ٹھوکروں کے نتیجہ میں یہ اپنی خدمات میں مصروف ہیں، وہ کوئی پوشیدہ نہیں، سبھی جانتے ہیں، ایک طرف اعداء اسلام ان کو ”بنیاد پرست“، رجعت پسند“، ”دہشت گرد“، ”قدامت پسند“ کا طعنہ دیتے ہیں اور دوسری جانب روشن خیال مسلمان جو مدارس کے نادان دوست ہیں، وہ اپنی خطاؤں سے مدارس کو مورد الزام ٹھہرادیتے ہیں، انجینئرز اور ڈاکٹرز اور سائنس داں پیدا کرنے کا بیڑا ہم اہلِ مدارس نے لیا ہی کہاں ہے؟ یہ بات الگ ہے کہ دینی مدارس اب نونہالانِ امت کے ایمان کو بچانے کے لئے دینی ماحول میں عصری تعلیم کی طرف بھی توجہ دے رہے ہیں، مگر اس پر بھی امت کا ایک طبقہ ان کو نشانہ بنائے ہوئے ہے۔ عجیب صورت حال، امت کو ہر جانب سے مدارس ہی کو نشانہ بنانے کی سوجھتی ہے، مگر مدارس الحمدللہ! اللہ کی توفیق اور مدد سے برابر اپنی خدمت میں بلاکسی لومۃ لائم کی پرواہ کئے بغیر مصروف کار ہیں؛ اللہ ہمارے ان مدارس کو ہر طرح کی داخلی وخارجی، ظاہری و باطنی سازشوں اور فتنوں سے محفوظ رکھے۔ آمین یا رب العالمین!

Categories
Uncategorized

Hafiz Muhammad Siddique Madani is elected as a member of National Youth Assembly Pakistan

According the National Youth Assembly of Pakistan,s notification that Hafiz Muhammad Siddique Madani selected as a member of National Youth Assembly of Pakistan.
Issued Notification

نیشنل یوتھ اسمبلی پاکستان کے ایک مراسلہ میں حافظ محمد صدیق مدنی کو ضلعی ممبر منتخب کیا گیا ہے۔

نوٹیفیکیشن جاری

Categories
Uncategorized

مولانا محمدحنیف شہید ۔۔۔۔آہ ہم سے بچھڑگئے

تحریر۔مولوی حافظ محمدصدیق مدنی

اللہ تعالیٰ کا امت مسلمہ پر یہ بڑا کرم ہے کہ ہر دور میں وہ اپنے دین کی حفاظت، تبلیغ، اشاعت اور دفاع کاکام اپنے منتخب بندوں سے لیتا رہا ہے۔ اس طرح ایک طرف کتاب وسنت کے ابدی رہنماء اصول ہر دور میں اجاگر ہوتے رہتے ہیں اور دوسری طرف حق کے متلاشی حضرات کی رہنمائی ہوتی رہتی ہے ساتھ ہی مسلمانوں کی اصلاح کا سلسلہ جاری رہتا ہے۔ تاریخ اسلام کے مطالعہ سے ظاہر ہوتا ہے کہ علمائے امت اور صلحائے امت صدیوں سے اس خدمت میں مصروف ہیں۔ کتاب وسنت کی تبلیغ واشاعت، علوم کی ترویج، فنون کی تدوین، مسائل کے استنباط اور نتائج کے استخراج کے عظیم خدمات کا ہی نتیجہ ہے کہ آج دین کے اصولوں اور جزئیات کا زبردست ذخیرہ ملت اسلامیہ کے پاس موجود ہیں یہ سب حضور کائنات حضرت محمدصلی اللہ علیہ وسلم کی اس تربیت کا نتیجہ ہے جس سے صحابہ کرام ؓ فیض یاب ہوئے۔ اور انہوں نے یہ اثاثہ تابعین کو اور انہوں نے تبع تابعین کو منتقل کیا اور علمائے حق آج تک اس مبارک اور عظیم ورثے کی حفاظت کرکے اسے آئندہ نسلوں کو منتقل کر رہے ہیں۔
عجب قیامت کا حادثہ ہے، آستیں نہیں ہے
زمین کی رونق چلی گئی ہے، افق پہ مہر مبین نہیں
تری جدائی سے مرنے والے، وہ کون ہے جو حزیں نہیں ہے
مگر تری مرگ ناگہاں کہ اب تک یقین نہیں ہے
جمعیت علماء اسلام پاکستان کے مرکزی ڈپٹی جنرل سیکرٹری اوربلوچستان کے معروف

مدرسہ الجامعہ دارالعلوم الاسلامیہ ملت آباد چمن کے بانی و مہتمم حضرت مولانامحمدحنیف شہیدنوراللہ مرقدہ ایسی شخصیت تھے کہ اس کے شجر سایہ دار تلے پہنچ کر ہر کس و ناکس راحت وسکون پاسکتا تھا۔ حضرت مولانا محمدحنیف شہیدنوراللہ مرقدہ کی شخصیت ایسی دل نواز، حیات افروز اور ایسی باغ و بہار تھی کہ جس کی خصوصیات کو ایک مختصر تحریر میں سمانا مشکل ہے۔ ہر فن میں اللہ تعالیٰ نے انہیں ایک خاص ملکہ عطاء فرمایا تھا۔ زندگی کے آخر میں حدیث کے فروغ میں بہت خدمت کی اور اس فن حدیث میں پورے پاکستان اور افغانستان میں اچھے اساتذہ علمائے کرام ہیں ان میں سے تھے۔ حضرت مولانا محمدحنیف شہیدنوراللہ مرقدہ خوبصورت، سفید ریش بزرگ تھے۔ کوئی اگر آپ ؒ کو دیکھتا تا آنکھ ہٹانے کو اس کا دل نہ چاہتا۔ رنگ گوراسرخی مائل تھا۔ چہرے سے نورانیت ٹپکتی تھی، ڈاڑھی پوری سنت کی مطابق تھی، چہرہ بارعب تھا۔ غصے کے وقت ان کے چہرے پر جلال کی کیفیت طاری ہوجاتی تھی۔ بات کرتے تو ہر کوئی ان کی گفتگو سے ان کا گرویدہ ہوجاتا۔ صاف صاف الفاظ میں گفتگو فرماتے، جس سے کوئی بھی ان کی بات سمجھے بغیر نہیں رہتا۔ حضرت مولانا محمدحنیف شہیدنوراللہ مرقدہ کو اللہ تعالیٰ نے جو خطابت کا ملکہ عطاء فرمایا تھاوہ اہل عجم میں شاذونادر ہی کسی کو نصیب ہوتا ہے۔خاص طور پر پشتو اور اردو تقریریں، جو اتنی بے ساختہ، سلیس، رواں اور شگفتہ ہیں کہ ان کے فقرے فقرے پر ذوق سلیم کو حظ ملتا ہے۔ ان میں قدیم و جدید اسالیب اس طرح سے جمع ہوکر یکجان ہوگئے ہیں کہ سننے والے جزالت وسلالت دونوں کا لطف ساتھ ساتھ محسوس کرتا۔


حضرت مولانا محمدحنیف شہیدنوراللہ مرقدہ کا شمار ایسے ہی علمائے حق میں ہوتا ہے جنہوں نے پوری زندگی علوم دینیہ کی خدمت اور امت مسلمہ کی اصلاح میں صرف فرمائی۔ وہ نہ صرف مفسرعہد مدبر عصر، عالم بے بدل، فاضل اجل اور فقیہ دوراں تھے بلکہ راہ سلوک کے بے مثل امام تھے۔ ان کی وفات سے نہ صرف علمی دنیا اجڑ گئی بلکہ دنیائے سلوک کا آفتاب غروب ہوگیا۔ وہ حقیقت میں ہمارے عظیم اسلاف کی یادگار تھے۔وہ عالموں کے عالم تھے ان کی زندگی ہم سب کیلئے مشعل راہ اور نمونہ ہدایت تھی ان پر شاعر مشرق علامہ اقبال کا یہ شعر بالکل صادق آتا ہے
ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پہ روتی ہے
بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا
حضرت مولانا محمدحنیف شہیدنوراللہ مرقدہ انہی عظیم ہستیوں میں سے ایک ہیں جن سے اللہ رب العزت نے بڑے بڑے کام لئے جن کا وجود پورے ملک کیلئے ایک عظیم نعمت تھا جن کے کردار پر آج تک کوئی انگشت نمائی نہیں کرسکا دوست تو دوست دشمن بھی انکے کردار کی تعریف کئے بغیر نہیں رہ سکے۔ ذاتی اوصاف سے مولانا صاحب ایک بلند پایہ انسان تھے ہر لحظہ مسکرانے کی عادت مزاج میں نرمی، طبیعت میں انکسار، استقامت، عزیمت، علم، حلم ووقار،تدبر، فراست، ذہانت اور اخلاق کو گوندھ کراگر انسانی وجود تیار کیا جائے تو وہ حضرت مولانا محمدحنیف شہیدنوراللہ مرقدہ ہوں گے۔حضرت کی زندگی کے تمام گوشے آج ہمارے سامنے ہیں۔
بظاہر تو ہر کوئی دینداری و پاکبازی کا دعویدار ہوتا ہے، لیکن حقیقت کی کسوٹی پر کچھ ہی لوگ اتر پاتے ہیں اسی کیساتھ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ آج دنیامیں صاحب دل اور خداترس لوگوں کی کمی ضرور ہیں لیکن نایاب نہیں۔ کائنات کا وجود ہی ایسی لوگوں کے دم سے ہیں جن کے دل خوف خدا سے لبریز ہوں اور جن کے دماغ پر ہمہ وقت آخرت کا فکر سوار ہو، جن کے زبانیں ذکر الٰہی سے تروتازہ اور جن کی ہر حرکت اور زندگی کے ہر ہر سانس اطاعت الٰہی اور سنت نبوی کا نمونہ ہو۔ انھیں عظیم انسانوں میں ایک نام حضرت مولانا محمدحنیف شہیدنوراللہ مرقدہ کا نمایاں ہے اور وہ ایک عظیم انسان اور ایک ہمہ جہت شخصیت تھے۔ ان کے دل میں اللہ رب العزت اور اس کے رسول حضور کائنات حضرت محمدصلی اللہ علیہ وسلم کی سچی محبت، ملت اسلامیہ کا درد اور پوری انسانیت سے خیرخواہی کا جزبہ کوٹ کوٹ کر بھرا ہواتھا۔
دراصل حضرت مولانا محمدحنیف شہیدنوراللہ مرقدہ کی شخصیت کی تصویر اتنی پھیلی ہوئی ہے اور اسکے درخشاں گوشے سامنے ہیں کہ ان سب کا احاطہ کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ مولانا صاحب کے اندر ایک داعی حق، ایک متکلم اسلام، ایک مفکر حیات، ایک ادیب، ایک سیاسی قائد، ایک تنظیم کار اور ایک بیباک مجاہد بیک وقت جمع تھے۔ ان کی شخصیت سیاسی وتاریخی اور علمی وانقلابی ہر دو لحاظ سے بے حد اہم ہے۔ اور پھر اس کیساتھ حسن کردارکے اجتماع نے ان کو اپنے دور کی ایک عبقری شخصیت بنادیا ہے مگرکسی ایسی جامع شخصیت کے حسن کو دوسروں تک منتقل کرنا ٹیڑی کھیر ہے۔اسکے یہ معنی نہیں کہ اس کام کو کیا ہی نہ جائے۔کوشش ہی کی راہ کامیابی کی منزل کو جاتی ہے۔
حضرت مولانا محمدحنیف شہیدنوراللہ مرقدہ کی انتہائی نمایاں خصوصیت تھی کہ سیاست اور علاقائی مصروفیات میں اس درجہ انہماک کے باوجود ان کا علمی استحصار اور علمی ذوق پوری طرح برقرار رہا۔ جب کبھی کسی علمی مسئلے کی بات آتی تو معلوم ہوتا کہ اس کے تمام مالہ و ما علیہ پوری طرح مولانا صاحب کے نگاہ میں ہیں اور جب اس موضوع پر بات کرتے تو ایسا محسوس ہوتا جیسے کسی علمی کتاب کا درس ہورہاہے۔


بلوچستان کے شہر چمن کا ایک قدیم دینی اور تعلیمی ادارہ مدرسہ بحرالعلوم چمن گھوڑا ہسپتال روڈ چمن میں ایک تربیتی کانفرنس سے حضرت مولانا ندامحمدحقانی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مولانا محمدحنیف شہیدنوراللہ مرقدہ مظلومو ں کا ترجمان تھے جہاں بھی ظالم ظلم کرتے وہ اس کے مخالفت کرتے دن ہو یا رات, گرمی ہوتا یا سردی,,پیدل ہوتا یا گاڑی میں سرمایہ دار ہوتا یا غریب وہ بلا تفریق مظلوم عوام کے خد مت میں حاضر ہو تے تھے۔
وہ عالم اسلام کے خاموش مجا ہد تھے اور سچے عاشق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تھے مجھے یاد تھے جب 1988 جمعیت طلبہ اسلام چمن کے قیادت کو وی سی آر دیگر فحاشی کے خلاف احتجاجی مظاہرے کے دوران جھوٹے مقدمات میں گرفتار کر لیے تو اس وقت صرف مولانا محمد حنیف شہید تھے جن کے کارکنوں کو مقد مات سے بری کر دیا اور امت مسلمہ کے درمیان اتحاد کیلئے ان خدمات کسی سے پوشیدہ نہیں حالیہ جمعیت علماء اسلام کے دو نوں گروپ کے اتحاد میں ان کر دار مخلصا نہ اور قائد انہ تھے.
حضرت مولانا محمدحنیف شہیدنوراللہ مرقدہ جامع الکمالات انسان تھے۔ اللہ تعالٰی نے بہت سی خوبیوں سے انہیں نوازا تھا۔ میں نے اپنی زندگی میں کسی عالم دین میں بیک وقت اتنے کمالات جمع نہیں دیکھے۔ آپ بہت بڑے محدث، فقہی، فن منطق کے ماہر فلسفی، اصول پسند، فصیح و بلیغ ہونے کیساتھ ایک عظیم مقرر بھی تھے۔ مجمع میں تمام حاضرین کو اپنے دلائل اور اخلاص سے متاثر کرلیا کرتے تھے کسی کو تابع و گرویدہ بنانا انہی کاکام تھا۔ آپ ظاہری و باطنی، دینی و دنیاوی، علمی اور غیرعلمی کے تمام خوبیوں کا مجموعہ تھے۔


بہر حال آپ کی پوری زندگی خدمت اسلام میں گزری اور نہایت لطیف مزاج کے مالک تھے اور آپ کا ہم سے جدا ہونا ایک صبر آزما سانحہ ہے جس میں چشم ماتم گسار خداجانے کب تک اشک بار رہے گی اور موت کے ظالم ہاتھوں نے ایک ایسی ہستی کو ہم سے جدا کردیا جس سے ملک کے تمام مذہبی لوگ ہدایت حاصل کرتے تھے۔
اللہ رب العزت ہمیں ان کے اسلامی نقش قدم پر چلنے کی توفیق عطاء فرمائیں۔ (آمین ثم آمین)

Categories
Uncategorized

فتنہ قادیانیت کیخلاف تاریخ ساز فیصلہ تحریر۔ مولوی حافظ محمدصدیق مدنی

قرآن پاک اور اس سے قبل آسمانی کتابوں توریت،انجیل، اور زبور پر ایمان لاتے ہیں اس پر بھی ہمارا ایمان ہے کہ رسول ؐ اللہ کے آخری پیغمبر ہیں۔ ختم نبوت کا عقیدہ ان اجتماعی عقائد میں سے ہے، جو اسلام کے اصول اور ضروریات دین میں شمار کئے گئے ہیں۔عہد نبوتؐ سے لے کر اس وقت تک ہر مسلمان اس پر ایمان رکھتا آیا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بلا کسی تاویل اور تخصیص کے خاتم النبیین ہیں۔ قرآن مجید کی ایک سو آیات کریمہ اور رحمت عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث متواترہ (دو سو دس احادیث مبارکہ) سے یہ مسئلہ ثابت ہے، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کا سب سے پہلا اجماع اسی مسئلہ پر ہوا کہ مدعی نبوت کو قتل کیا جائے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ حیات میں اسلام کے تحفظ و دفاع کے لئے جتنی جنگیں لڑی گئیں، ان میں شہید ہونے والے صحابہ کرام ؓکی کل تعداد 259 ہے اور عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ و دفاع کے لئے اسلام کی تاریخ میں پہلی جنگ جو سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے عہد خلافت میں مسیلمہ کذاب کے خلاف یمامہ کے میدان میں لڑی گئی، اس ایک جنگ میں شہید ہونے والے صحابہؓ اور تابعین ؒکی تعداد بارہ سو ہے جن میں سے سات سو قرآن مجید کے حافظ اور عالم تھے۔رحمت عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کی کل کمائی اور گراں قدر اثاثہ حضرات صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہیں، جن کی بڑی تعداد اس عقیدہ کے تحفظ کے لئے جام شہادت نوش کرگئی۔ اس سے ختم نبوت کے عقیدہ کی عظمت کا اندازہ ہوسکتاہے۔
صاحبو! یہ ہمیں اچھی طرح معلوم ہے کہ ہر کوئی اپنی جان کی حفاظت کرتا ہے،اپنے مال کی حفاظت کرتا ہے، اپنے گھر کی حفاظت کرتا ہے مگر جب کوئی ہمارے اس عقیدے پر نقب لگائے تو اس کی حفاظت کی با لکل پرواہ نہیں کرتے۔ہم اپنے عقیدے اور ایمان کی حفاظت کیوں نہیں کرتے؟ کیا جس کی جومرضی ہو وہ ہمارے دین کے اندر نقب لگا لے؟
مسلمانوں کو دین کے بارے میں کم از کم بنیادی معلومات ہر حالت میں اَزبر ہونی چاہیے تاکہ کوئی ان کے دین میں نقب نہ لگا سکے۔ چند دن پہلے میں نے محمد متین خالد کی کتاب ”قادیانیت برطانوی سامراج کا خود کاشتہ پودا“ حرف بہ حرف پڑھی تو مجھے محسوس ہوا کہ مسلمانوں کے عقیدے کی حفاظت کے لیے یہ کتاب ایٹم بم کا درجہ رکھتی ہے جس طرح ڈاکٹر قدیر خان نے پاکستان کی حفاظت اورسا لمیت کے لیے ایٹم بم بنایا تھا اور پاکستان دشمنوں سے محفوظ ہو گیا اور دشمن اس کی طرف ٹیڑھی نظر رکھنے سے پہلے ہزار بار سوچتا ہے اسی طرح اس کتاب کے ہوتے ہوئے اور اس کو سمجھ کر اسے یاد رکھنے اس پر عمل کرنے سے مسلمان کے عقیدے کی حفاظت ایک ایٹم بم کی سی ہے مسلمانوں کے عقیدے کے خلاف دشمن سو قسم کی مکاریاں اور ٹگھیاں کرے وہ اس کا کچھ بھی نہیں بگاڑ نہیں سکے گا یہ ایک ایسی کتاب ہے جس کے مندرجات پڑھنے سے محسوس ہوتا ہے کہ مصنف نے کس طرح عرق ریزی اور محنت سے قادیانیوں کے اپنے لڑیچر سے حقیقی مواد اس کتاب کے اندر جمع کر دیا ہے۔ کس طرح فتنہ قادیانیت جس نے ہمارے دین میں نقب لگایا ہے کے بت کو بے نقاب کیا گیا ہے اس محنت کو دیکھ کر ایک مسلمان کا ایمان تازہ ہو جاتا ہے اس کو اگر مصنف کا”انسائیکلوپیڈیا آف قادیانیکا“ مانا جائے تو بے جا نہ ہو گا۔
قادیانیوں کا نبی الگ،قرآن الگ،نماز روزہ،حج،اور زکوٰۃ مسلمانوں سے مکمل الگ ہے اس کے باوجود ٹھگی کر کے خود کومسلمان کہلوانے اور شعائر اسلامی استعمال کرنے پر بضد ہیں قادیادنی مذہب کے پیروکارمرزاقادیانی کی بیوی کوام المومنین اس کے گھر والے اہل بیت مانتے ہیں قادیانی ٹھگی کر کے اپنے آپ کو مسلمانوں کا ایک فرقہ ظاہر کرتے ہیں جبکہ وہ فرقہ نہیں ہیں غیر مسلم ہیں پاکستان کے آئین ۳۷۹۱ء میں جمعیت علماء اسلام پاکستان کے قائد مولانا مفتی محمود رحمۃ اللہ علیہ اور دیگر علماء کرام کے کاوش سے ان کو غیر مسلم قرار دیا گیا ہے۔۷ ستمبر ۴۷۹۱ء بلاشبہ عالم اسلام بالخصوص پاکستانی مسلمانوں کے لیے ایک یادگار دن ہے جب منتخب پارلیمنٹ نے متفقہ طور پر پر ان کو اقلیت قرار دیا۔ اس سے قبل اپریل ۴۷۹۱ء میں رابطہ عالم اسلامی کے اجلاس میں ۰۴۱ تنظیموں اور ملکوں کے نمائندوں نے انہیں غیر مسلم اقلیت قرار دیا تھا۔
حکیم لاامت علامہ اقبالؒ نے قادیانیوں کو ”قادیانیت یہودیت کا چربہ ہے“ کہا ہے علامہ اقبال ؒ نے ۶۳۹۱ء میں پنجاب مسلم لیگ کی کونسل میں قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دینے کی تجویز پاس کرائی اور مسلم لیگی امیدواروں سے حلفیہ تحریر لکھوائی تھی کہ وہ کامیاب ہو کر قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیے جانے کے لیے آئینی اداروں میں مہم چلائیں گے۔
بانیِ پاکستان قائد اعظم ؒ سے ۸۴۹۱ء میں کشمیر سے واپسی پر سوال کیاگیا کہ قادیانیوں کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے تو انہوں نے فرمایا”میری رائے وہی ہے جو علمائے کرام اور پوری اُمت کی رائے ہے“ اس سے ظاہر ہے وہ قادیانیوں کو غیر مسلم سمجھتے تھے۔ شہیدِ ملت لیاقت علی خانؒ نے اپنے قتل کی سازش بے نقاب ہونے پرسر ظفراللہ کے ہم زلف میجر جنرل نذیر احمدقادیانی کو جو امپریل ڈیفنس کالج لندن میں ایک تربیتی کورس پر گیا ہوا تھا واپس بلوا کر گرفتار کر لیا تھا۔
قادیانیوں کی پاکستان کے خلاف سازشیں کا ذکر کچھ اس طرح ہے۔ذوالفقارعلی بھٹو کے دور میں ۳۷۹۱ء حکومت کا تختہ الٹنی کی سازش میں تین فوجی قادیانیوں کو گرفتار کیا گیا تھاجن میں میجر فاروق،سکوارڈرن لیڈر محمد غوث اور میجر سعید اختر (ملک اختر حسین کا بیٹا اور لیفٹینٹ جنرل عبدالعلی ملک کا بھتیجا) ملوث تھااس کے دو ماہ بعد ایک اور سازش کا انکشاف ہوا جس میں فوج کے چودہ افسران ملوث تھے ان کے خلاف ۲ جولائی ۳۷۹۱ء کو مقدمہ شروع ہوا گروپ کیپٹن عبدالستار نے انکشاف کیا قادیانی افسر بھٹو حکومت کو ختم کرنے کی سازش کر

رہے ہیں ایک بار ایئر فورس کے سربراہ ظفر چودھری قادیانی کے ہاتھوں کورٹ مارشل ہونے والے ایک مسلمان افسر نے بھٹو تک رسائی حاصل کر کے ظفر چودھری کے مقاصد بیان کیے تو بھٹو نے کہا ”اچھا یہ ہے ان کا اصل روپ“(موید قومی ہیرو ایم ایم عالم صفحہ ۳۸۱ ۴۸۲) پھر۵۲ جولائی ۴۷۹۱ء کو جسٹس صمدانی کے سامنے جب یہ معلومات آئی کہ مرزا ناصر احمد
کی صدارت میں سرکردہ قادیانیوں نے بھٹو کو راستے سے ہٹانے کا فیصلہ کیا ہے(جسٹس صمدانی رپورٹ یکم اکتوبر ۴۷۹۱ء) دسمبر ۳۷۹۱ء کو قادیانیوں کا جلسہ ربوہ میں ہو رہا تھا تو ایک ایک کر کے تین قادیانی پائلٹوں نے غوطہ لگا کر مرزا ناصر قادیانی کو سلامی دی اس کے بعد ائیر فورس کے قادیانی سربراۂ ائیر مارشل ظفر چودھری کی قیادت میں انہی جہازوں نے
قادیانیوں کے جلسے پر پھولوں کی پتیاں نچھاورر کیں اس پر مرزا ناصر نے کہا تھا”میں دیکھ رہا ہوں احمدیت کا پھل پک چکا ہ ہے“ اس کے بعد جلسے میں احمدیت زندہ باد کے نعرے لگائے گئے اخبارات میں اس کی رپورٹنگ ہوئی اور خفیہ والوں نے بھی یہی رپورٹ دی تو بھٹو نے ایئر مارشل ظفر چودھری کو رخصت کر دیا۔ اس دور میں ایک سائنس کی کانفرنس ہو رہی تھی ڈاکٹر عبدالسلام کو بھی دعوت تھی مگر اس نے کارڈ پر لکھ کہ واپس کر دیا کہ ”میں اس لعنتی ملک پر قدم نہیں رکھنا چاہتا، جب تک کہ آئین میں کی گئی ترمیم واپس نہ لی جائے“ بھٹو نے یہ ریمارکس پڑھ کر اسٹیبلشمنٹ سیکرٹری وقار احمد کو لکھا ڈاکٹرعبدالسلام کو فارغ کر دیا جائے مگر اس حکم کو کا ریکارڈ میں رکھنے کے بجائے اپنے پاس رکھ لیا اور بعد میں معلوم ہوا کہ وقار احمد بھی قادیانی ہے (ڈاکٹر عبدالقدیر اور کہوٹہ سنٹر ازیونس خلش صفحہ۰۸) ایک اہم واقعہ زاہد ملک کی کتاب ”ڈاکٹر عبدالقدیر اور اسلامی بم“ ”کی کتاب کے صفحہ ۳۲ پر ڈاکٹر عبدالسلام کی پاکستان دشمنی کے بارے میں بتاتے ہیں نیاز اے نائیک نے صاحبزادہ یعقوب علی خان کے بیان کردہ واقعہ بتایا کہ امریکہ میں ایک دورے کے دوران پاکستان کے ایٹمی پروگرام کا ذکر ہو رہا تھا مجھے بتایا اورکہا گیا پاکستان اٹیمی پروگرام میں مصر ف ہے اور ایٹم بم بنا رہا ہے میں نے انکار کیا تو سی آئی اے کا ایک اہلکار دوسرے ممبران کے ساتھ مجھے اور ان کو ایک کمرے میں لے گیا اور کسی چیز پر پڑا ہوا ایک پردہ ہٹایا کوئی گول سی گیند نما چیر دکھائی اور کہا ہم کو سب کچھ معلوم ہیں یہ ہے آپ کا اسلامی ایٹمی بم۔ اس پر میں نے کہا میں ٹیکنیکل آدمی نہیں ہوں اگر آپ کہتے ہیں تو ہوگا اسلامی بم۔ ہم سب باہر نکل رہے تھے تو ویسے ہی میں نے پیچھے موڑ کر دکھا تو ڈاکٹر عبدالسلام قادیانی ایک دوسرے کمرے سے نکل کر اس کمرے میں داخل ہو رہاتھا میں نے دل میں کہا اچھا! تو یہ بات ہے۔۲۷۹۱ء میں قومی اسمبلی میں مولانا ظفر احمد انصاری نے پارلیمنٹ کو یہ بتا کر حیران کر دیا کہ”فلسطین میں قادیانی مسلمانوں کو قتل کر رہے ہیں ۰۰۶ سو قادیانی اسرائیلی فوج میں بھرتی ہیں حوالہ”اسرائیلی اے پروفائل“ یہودی مصنف پروفیسر آئی آئی نومائی(۹۲ دسمبر ۵۷۹۱ء نوائے وقت لاہور صفحہ ۵) اور یہودیوں کے ساتھ مل کر فلسطینی مسلمانوں کو قتل کر رہے ہیں۔اسرائیل میں کوئی بھی مذہبی مشن کام نہیں کر سکتا لیکن قادیانی مشن کام کر رہا ہے اس کی تصدیق کچھ عرصہ قبل نوائے وقت میں ایک تصویر سے عیاں ہوئی کہ قادیانی مشن اسرائیل کے شہر حیفہ کا انچارج شیخ شریف نئے آنے والے قادیانی مشن کے انچارج شیخ محمد حمید کا تعارف کروا رہا ہے اس سے ایک طرف قادیانیوں میں غم کی لہر دوڑی اور دوسری طرف مسلمانوں کو حیرت میں ڈال دیا۔ ہفت روزہ تکبیر مارچ ۶۸۹۱ء کے مطابق مشہور سراغرساں جیمز سالمن ونسٹنٹ نے انکشاف کیا کہ شہید ملت لیاقت علی خان کو قتل کرنے والا ایک جرمن جیمز کنز ہے اس کا نام قادیانی ہونے کے بعد عبدالشکور تھا اس کو سر ظفراللہ نے قادیانی بنایا تھا یہ اب بھی مغربی جرمنی کے شہر برلن میں زندہ ہے۔ کتاب کے مندرجات سے پتہ چلتا ہے کہ پاکستان بنتے و قت قا دیانیوں بظاہر ٹھگی کرتے ہوئے پاکستان کی حمایت اور اندر ہی اندر اپنے نکتہ نظر کی آبیاری کی گئی۔ اس امر کی تصدیق (الفضل قادیان مئی ۷۴۹۱ء صفحہ نمبر ۲) سے ہوتی ہے اس کا مفہوم یہ ہے”مرزا قادیانی اپنی رُویا بیان کرتے ہیں کہ ہندوستان کی تقسیم عارضی ہے ساری قومیں متحد رہیں تو احمدیت کے لیے بہتر ہے۔ہم اگر ہندوستان کی تقسیم پر رضا مند ہوئے ہیں تو خوشی سے نہیں بلکہ مجبوری سے،اور پھر کوشش کریں گے کہ کسی نہ کسی طرح جلد متحد ہو جائیں۔“ سر ظفراللہ بظاہر پاکستان کے وکیل تھے مگر ساتھ ساتھ قادیانیوں کو غیر مسلم ظاہر کر کے قادیان کو وٹیگن سٹی قرار دینے کے لیے الگ میمورنڈم بھی باؤنڈری کمیشن کو پیش کیا جو ۰۴۹۱ ء میں تیار کیا گیا تھا ساتھ ہی ساتھ گرداسپور کا نقشہ بھی پیش کیا گیا تھا جس کو دیکھ کر باؤنڈری کمیشن اس وقت حیرت میں پڑ گیا تھا وٹیگن سٹی کا مطالبہ تو نہ مانا گیا مگراسی وجہ سے گرداسپور کو بھارت میں شامل کر لیاگیا تھا اس سے بھارت کو کشمیر ہڑپ کر لینے کی راہ میسر آگئی(قادیانیت کا سیاسی تجزیہ از صاحبزادہ طارق محمود)۔ اس واقعہ کو مذید تقویت اس حرکت سے ملتی جو قادیانی ظفراللہ نے کی۔ گرداسپور میں تقسیم کے وقت مسلمان ۱۵ فی صد،ہندو ۹۴ فیصد اور قادیانی ۲ فی صد تھے جب ۲ فی صد قادیانی علیحدہ ہو گئے تو مسلمان ۱۵ فی صد کی بجائے ۹۴ فی صد ہوگئے اس سے گرداسپور جاتا رہامسلم لیگی رہنما میاں امیرالدین نے ایک انٹرویو میں اعتراف کیا کہ باؤنڈری کمیشن کے مرحلے پر ظفراللہ کو مسلم لیگ کا وکیل بنانا مسلم لیگ کی بہت بڑی غلطی تھی پٹھان کوٹ کا علاقہ قادیانیوں کی سازش سے ہندوستان میں شامل ہو ا (ہفت روازہ چٹان ۶ اگست تا ۳۱ اگست۴۸۹۱ء) قادیانی سر ظفراللہ کی دوغلی پوزیشن کا ذکر ہندوستان ٹائمز میں بھارت کے سابق کمشنر سری پرکاش کی قسط وار سوانح عمری سے واضح ہوتا ہے اس نے ۷۴۹۱ء میں قائدِ اعظم محمد علی جناحؒ کو بیوقوف قرار دیا تھا اور کہا تھا اگر پاکستان بن گیا تو ہندوؤں سے زیادہ مسلمانوں کو نقصان پہنچے گاکچھ عرصہ بعد کراچی میں ملاقات کے دواران معلوم کیا اب آپ کا کیا خیال ہے تو ظفراللہ نے کہا میرا وہی جواب ہے(اداریہ روز نامہ مشرق ۵۱ فروری ۴۶۹۱ء) کتاب کے مدراج سے معلوم ہوتا ہے پاکستان کے اندر قادیانی ریاست بنانے کے منصوبے کو بے نقاب کرتے ہوئے قادیانی ریاست کاموادقادیانیوں کی کتابوں سے جمع کیا گیا ہے جس سے انکار ممکن نہیں رہتا۔ ان کا رابطہ پاکستان کے دشمنوں سے اور ملک کے اندر مسلمانوں کے ملی وجود کے مخالفوں سے بھی ہے ان کے عزائم یہ ہے ”ہم احمدیت کی حکومت چاہتے ہیں ہمیں اس کے لیے تیار رہنا چاہیے۔۸۴۹۱ء مرزا محمود اس مقصد کے لیے

بلوچستان گیا اور اسے قادیانی صوبہ بنانے کا اعلان کیا اور کہابلوچستان کی آبادی ۵ لاکھ ہے اتنی آبادی کو احمدی بنانا کوئی مشکل کام نہیں جب تک ہماری بیس نہ ہو گی کامیابی مشکل ہے میں جانتا ہوں یہ صوبہ ہمارے ہاتھوں سے نہیں بچ سکتا یہ ہمارا شکارضرو ہو گا“(روزنامہ الفضل قادیان۸۴۹۱ء)جسٹس تنویر احمد یک رکنی ٹربیونل کی رپورٹ کے مطابق فروری
۷۹۹۱ء میں شانتی نگر خانیوال میں مسلمانوں اور عیسائیوں کے درمیان تصادم کا ذمہ دار قادیانی جماعت خانیوال کا صدر نور احمد تھا اس سے پورے پاکستان میں لاء ایند آدر کا مسئلہ پیدا ہوا تھا مگر افسوس حکومت نے کوئی کاروائی نہیں کی۔ اِس سے گمان ہوتا ہے کی قادیانی غیر ملکی ایجنسیوں، جیسے بلیک واٹر سے مل کر پاکستان کے حالات خراب کرنے میں ملوث ہو سکتی ہیں۔ یوں تو اس کتاب کے صفحہ ۸۶ تا ۵۴۲ تک مرزا قادیانی انگریز کو اپنی اور اپنے خاندان کی وفاداری،خیرخواہی، خدمت گزاری،شکرگزاری،تقریری اور تحریری خدمات،حدیثوں سے انگریز سلطنت کی تعریف،جانثاری کا یقین دلاتے نظر آتا ہے مگر خاص کر خود اپنے آپ کو برطانوی سامراج کا خود کاشتہ پودا، ایک درخواست میں ثابت کرتا ہے۔ اپنے ایک عریضہ میں رقطراز ہے”عریضہ بعالی خدمت گورنمنٹ عالیہ انگریزی“ میں لکھتا ہے اِس خود کاشتہ پودا کی نسبت نہایت حزم اور احتیاط اور تحقیق اور توجہ سے کام لے کر اور اپنے ماتحت حکام کو اشارہ فرمائیے کہ وہ بھی اس خاندان کی ثابت شدہ وفاداری اور اخلاص کا لحاظ رکھ کر مجھے اور میری جماعت کو ایک خاص عنایت اور مہربانی کی نظر سے دیکھیں۔ایک دوسری جگہ مسلمانوں کے خلاف انگریزوں کی مدد کرتے ہوئے ایک خط بنام ملکہ ہندوستان و انگلستان میں رقم طراز ہے کہ”میرے والد مرزا غلام مرتضیٰ نے ۷۵۸۱ء کی جنگ آزادی میں انگریز حکومت کی مدد پچاس گھوڑوں مع سواروں سے کی تھی اور ساتھ ساتھ یہ بھی ارادہ کیا تھا کہ جنگ کا کچھ اور طول ہوتا تو میرے والد سو اور سواروں کی بھی مدد کے لیے تیار تھے“
قارئین! اوپر بیان کردہ تجزیا کے تحت جس گروہ کو علامہ اقبال ؒ ۶۳۹۱ء میں اقلیت قرار دینے کا مسلم لیگی امیدواروں سے عہد لیا تھا۔ قائداعظمؒ ۸۴۹۱ء میں اِنہیں غیر مسلم مان چکے ہیں۔لیاقت علی خان ؒ نے ۱۵۹۱ء نے اپنی شہادت سے قبل، قتل کی سازش بے نقاب ہونے پر سرظفراللہ کے ہم زلف میجر جنرل نذیر احمد جوقادیانی کو جو امپریل ڈیفنس کالج لندن میں ایک تربیتی کورس پر گیا ہوا تھا واپس بلوا کر گرفتار کر لیا تھا۔ مولانا ظفر احمد انصاریؒ ۲۷۹۱ء ۰۰۶ قادیانیوں کا اسرائیلی فوج میں بھرتی اور فلسطینی مسلمانوں کو قتل کرنے کا انکشاف کیا تھا۔ جو ذوالفقار علی بھٹو کو۳۷۹۱ء میں دو مرتبہ قتل کی سازش کر چکے ہیں۔ صاحبزادہ یعقوب سابق وزیر خارجہ کا انکشاف کہ ڈاکٹرعبدالسلام نے امریکہ کو پاکستان کے ایٹم بم ماڈل سازش سے پہنچایا ہے۔ پاکستان کی منتخب پارلیمنٹ، اسلامی دنیا کی نمائندہ تنظیم رابطہ عالم اسلامی اور مسلمانوں کے تمام مکتبہ فکر کے لوگ غیر مسلم تصور کرتے ہیں۔ ان کو پاکستان اوراسلام کا دشمن مانتے ہیں۔ عام مسلمان ان کو کافر تصور کرتے ہیں۔ ان حالات میں یہ کیسے ممکن کہ ایک قادیانی ایئر مارشل بن سکتا ہے،بری فوج کا جنرل اور چیف آف اسٹاف بن سکتاہے، نیول فوج کا افسر بن سکتا ہے پاکستان ایٹمی پروگرام کا ممبر بن سکتا ہے کلیدی عُہدوں پر فائز ہو سکتا ہے اب بھی بُہت سے قادیانی ا پنے باطل مذہب کو چھپائے ہوئے ہیں اور اپنے آپ کو مسلمانوں کا ایک فرقہ ظاہر کرتے ہیں اور ملک دشمنی اور جاسوسی سرگرمیوں میں ملوث ہیں!یا اللہ یہ کیا ماجرا ہے! ہم میں سے کون قصور وار ہے؟ کیا اقتدار کے بُھوکے سیاست دان… دولت اورجاہ وجلال کے بُھوکے بیوروکریٹس… دنیا کے مالیاتی اداروں کی مقروض پاکستانی حکومتیں… ہماری مقتدر حلقوں کی ذہنی غلامی…یا بیرون ملک اسلام دشمن طاقتیں جن کو ملکوں کے اندر جاسوس درکار ہوتے ہیں… ہماری ہر اُس پاکستانی فرد سے درخواست ہے جو اسلام اور پاکستان کا مخلص ہے اُسے اپنی اپنی جگہ پر اِس قادیانی سازش کاڈٹ کر مقابلہ کرنا چاہیے تاکہ ہمارا پیارا پاکستان قائم و دائم رہے پاکستان ہے تو ہم ہیں… اتنی سازشوں کے باوجود اگر پاکستان قائم ودوائم ہے اِس سے ہمارا ایمان مذید پختہ ہو گیا ہے کہ اللہ تو ہی اِس مثل مدینہ پاکستان کی حفاظت کر رہا ہے ورنہ ان حالات میں پاکستان کا باقی رہنا مشکل سے مشکل ترس ہے۔

Categories
Uncategorized

ملک دشمن عناصر پاکستان کو شام اور عراق بنانے کے خواب دیکھنا چھوڑ دیں۔ حافظ محمد صدیق مدنی

جمعیت علماء اسلام ضلع قلعہ عبداللہ چمن کے رہنماء اور جامعہ دارالعلوم صدیقیہ چمن کے مدیر حافظ محمد صدیق مدنی نے کہا ہے کہ کراچی,اسلام آباد اور دوسرے شہروں میں حضرات صحابہ کرام کی اعلانیہ گستاخی کے پے درپے واقعات اسلامیان پاکستان کی دلآزاری ہی نہیں امن و امان اور قومی سلامتی پر خود کش حملوں کے مترادف ہیں,گستاخانہ مائنڈ سیٹ کا راستہ ہر قیمت پر روکنا ہوگا ورنہ دشمن اسے ہتھیار کے طور پر استعمال کر سکتا ہے,صرف ایف آئی آر کی کاغذی کارواء کافی نہیں سنجیدگی سے عملی اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے,مقدس ہستیوں کی گستاخی کے پے درپے واقعات تحفظ بنیاد اسلام بل ہی نہیں بلکہ اس سے زیادہ سخت قانون سازی کے متقاضی ہیں,ذمہ دار اور معتدل شیعہ رہنمائداخلی احتساب پر توجہ دیں,ملک دشمن عناصر پاکستان کو شام اور عراق بنانے کے خواب دیکھنا چھوڑ دیں,وطن عزیز کی سلامتی اور استحکام کے خلاف اس سے قبل ہونے والی سازشوں کو بھی ناکام بنایا اور آئندہ بھی اسلام اور پاکستان کے خلاف کوء سازش کامیاب نہیں ہونے دیں گے انہوں نے کہا کہ گستاخی کے ان واقعات کو اسلامیان پاکستان کی دلآزاری کے ساتھ ساتھ ملکی امن و امان اور قومی سلامتی پر خود کش حملے قرار دیا- حافظ محمد صدیق مدنی نے کہا کہ فرقہ وارانہ کشیدگی کو کم کرنے کے لیے ہم نے بہت محنت کی,بہت قربانیاں دیں اب ہم مٹھی بھر عناصر کو دوبارہ فرقہ واریت کی آگ بھڑکانے کی اجازت نہیں دیں گے-انہوں نے قومی سلامتی کے اداروں سے اس صورت حال کا فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ صرف کاغذی کارواء یا زبانی جمع خرچ کافی نہیں اس حوالے سے فوری اور عملی اقدامات اٹھائے جائیں,گستاخی کے مرتکب افراد کو نشان عبرت بنایا جائے اور گستاخانہ مائنڈ سیٹ کا راستہ ہر قیمت پر روکا جائے- افظ محمد صدیق مدنی نے معتدل اور محب وطن شیعہ رہنماوں کو دعوت دی کہ وہ اپنے داخلی احتساب کے نظام پر توجہ دیں اور بیرونی اشاروں پر شرانگیزی کرنے والے عناصر کو اپنی صفوں سے نکال باہر کریں -افظ محمد صدیق مدنی نے کہا کہ صحابہ کرام کی گستاخی کے پے درپے واقعات تحفظ بنیاد اسلام بل کی ضرورت و اہمیت کو اجاگر کر رہے ہیں بلکہ اس سے بھی زیادہ سخت قانون سازی وقت کا تقاضہ ہے-افظ محمد صدیق مدنی نے واضح کیا کہ پاکستان کو شام اور عراق بنانے کے خواب دیکھنے والے ہمیشہ کی طرح ناکام و نامراد ہوں گے اور تمام علماء کرام متحد ہوکر دشمن کی ہر سازش کو ناکام بنائیں

Categories
Uncategorized

ٹارگٹ کلنگ کی بدولت شہید حاجی آمین اللہ لونگ باچا کے قاتلوں کو فی الفور گرفتار کر کے سخت سزا دی جائیں ۔ حافظ محمد صدیق مدنی


چمن ۔۔۔۔ جمعیت علماء اسلام کے رہنماء اور ممبر نیشنل یوتھ اسمبلی پاکستان حافظ محمد صدیق مدنی نے ٹارگٹ کلنگ کی بدولت ممتاز تاجر حاجی گل زرین عشے زئی اور پی ٹی ایس ایم سی کلی حاجی صلاح الدین چمن کے چیئرمین نذیر احمد اچکزئی کے بڑے بھائی حاجی آمین اللہ لونگ باچا پر اندھا دھند فائرنگ سے شہید کرنے پر غم وغصہ کی اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت کی نااہلی اور عدم توجہ کی وجہ سے ہر شہری خود کو غیر محفوظ سمجھ رہا ہے اور عوام امن و امان کی مخدوش صورتحال سے سخت پریشان ہیں جس کی وجہ سے معاشرے میں بے چینی مسلسل بڑھ رہی ہے۔

حکمرانوں نے معصوم شہریوں کو دھشت پھیلانے والوں کے رحم و کرم پر چھوڑ رکھا ہے جبکہ اپنی اور اپنے تمام خاندانوں کے لیے سرکاری وسائل سے بیش بہا سیکورٹی انتظامات کر رکھے ہیں۔
حافظ محمد صدیق مدنی نے مذید کہا کہ حکومتی ادارے صرف لفاظی حد تک ہیں عملی طور پر عوام کے جان و مال کے تحفظ نہیں کیا جا رہا۔ حکمران بلوچستان بالخصوص چمن میں قتل و غارت گری کے واقعات کی روک تھام کیلئے مثبت پالیسی مرتب کرتے تاکہ عوام میں پایا جانے والا خوف و ہراس ختم ہوتا لیکن تواتر کے ساتھ واقعات میں اضافہ سوالیہ نشان ہے امن و امان کی مد میں کھربوں روپے خرچ ہو چکے ہیں مگر اس کے باوجود آئے روز امن و امان کی صورتحال مخدوش ہوتی جارہی ہے پارٹی اس حوالے سے جمعیت علماء اسلام ممتاز تاجر حاجی گل زرین ، حاجی محمد عظیم شاہ، محمد حنیفیاء عشے زئی ، نورشاہ عشے زئی اور پی ٹی ایس ایم ایس کلی حاجی صلاح الدین چمن کے چیئرمین نذیر احمد اچکزئی کیساتھ اس غم میں برابر کی شریک ہے ۔

اللہ تعالیٰ سے دعاء کی کہ شہید حاجی آمین اللہ لونگ باچا کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام اور پسماندگان کو صبر جمیل عطاء فرمائے۔


حافظ محمد صدیق مدنی نے حکومت وقت سے پر زور اپیل کی کہ وہ اس واقعے میں ملوث مجرموں کو جلد از جلد گرفتار کرکے سخت سزا دی جائے۔

Categories
Uncategorized

جمعیت علماء اسلام ضلع قلعہ عبداللہ چمن کے ضلعی تربیتی کنونشن آج چمن میں ہوگا۔ حافظ محمد صدیق مدنی

جمعیت علماء اسلام ضلع قلعہ عبداللہ چمن کے رہنماء اور ممبر نیشنل یوتھ اسمبلی پاکستان مولوی حافظ محمد صدیق مدنی نے ایک بیان

میں کہا ہے کہ۔ جمعیت علماء اسلام ضلع قلعہ عبداللہ کے زیر اہتمام ضلعی تربیتی کنونشن 20 اگست کو حاجی غوث اللہ مسلم کولڈ اسٹوریج نزد بجلی گریڈ اسٹیشن کوئٹہ روڈ چمن میں منعقد ہورہا ہے۔ جس کے مہمان خاص صوبائی امیر و ممبر قومی اسمبلی مولانا عبدالواسع ہونگے۔ اس کے علاوہ تربیتی کنونشن سے مرکزی ، صوبائی اور ضلعی قائدین بھی خطاب فرمائیں گے۔

Categories
Uncategorized

تمام احباب کو عیدالاضحیٰ کی ساری خوشیاں مبارک ہو۔ حافظ محمد صدیق مدنی

عیدمبارک بفضل الخالق الودود برائحةالورد والمسك والعود.
العيدعليناوعليكم يعود،في أيام الخيرو الكرم والجود،بأخلاق حسان والخصال المحمود،أهنئكم من كل قلب ودود،و أعيذكم بالله من كل شخص حسود، و أتمني لكم حياة المسعود،جعل الله ضحاياكم على الصراط مشهود، ويجمعناوإياكم على الحوض المورود،و يدخلنا بإحسانه دار الخلود.آمين
أخكم في الله عبد من عباد الله !

مولوی حافظ محمدصدیق مدنی